امریکا نے دنیا بھر میں افغان شہریوں کو جاری کیے جانیوالے ویزے بھی روک دیے

امریکا نے دنیا بھر میں افغان شہریوں کو جاری کیے جانیوالے ویزے بھی روک دیے

امریکا نے دنیا بھر میں افغان شہریوں کو جاری کیے جانے والے ویزے روک دیے، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دوبارہ جانچ پڑتال کا آغاز

تفصیلات کے مطابق امریکا نے دنیا بھر میں افغان شہریوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کے مطابق یہ فیصلہ حال ہی میں پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے کے بعد کیا گیا، جس میں بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکا منتقل کیے گئے ایک افغان شہری پر نیشنل گارڈز پر حملے کا الزام ہے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں موجود تمام افغان شہریوں کی دوبارہ جانچ پڑتال (Re-screening) کا عمل شروع کر دیا ہے، ساتھ ہی دنیا بھر میں موجود افغانوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کا سلسلہ بھی روک دیا گیا ہے۔

ہزاروں افغان شہری سکیورٹی رسک ہو سکتے ہے ،لیوٹکیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برسوں میں افغانستان سے امریکا آنے والے ہزاروں افراد ایسے ہیں جن کے بارے میں سیکیورٹی خدشات موجود ہیں۔ ان کے مطابقامریکا آنے والے تمام افغان شہریوں کی دوبارہ سیکیورٹی اسکریننگ کی جائے گی’’تیسری دنیا‘‘ کے ممالک سے آنے والے افراد کی پناہ کی درخواستیں بھی عارضی طور پر روک دی گئی ہیںمحکمہ خارجہ امیگریشن اور ویزا اسکروٹنی کو مزید سخت کر رہا ہےوائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ امریکی قانون کے مطابق ویزا کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ ایک مراعت ہے، اور سیکیورٹی خدشات کی صورت میں اس کے اجرا کو روکا جا سکتا ہے۔

ترجمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ممالک واپس بھیجنے کے لیے اقدامات تیز کر رہی ہے اور امریکی امیگریشن سسٹم کو ’’مضبوط اور محفوظ‘‘ بنانے کے لیے مختلف پالیسی تبدیلیاں زیرِ غور ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی و غیر قانونی امیگریشن پروگراموں میں پہلے ہی نمایاں کمی کی جا چکی ہے اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات کا امکان ہے۔

افغانوں کے ویزے اور پناہ کی درخواستیں معطل انہوں نے تصدیق کی کہدنیا بھر میں افغان شہریوں کو جاری کیے گئے تمام ویزے فی الحال روک دیے گئے ہیںسیکیورٹی خدشات کے باعث ان کی پناہ کی درخواستوں کو بھی مؤخر کر دیا گیا ہےپریس کانفرنس میں متعدد افغان شہریوں کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ریپبلکن قیادت پر اعتماد کے دعوےکیرولائن لیوٹ نے سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد ریپبلکن ارکانِ کانگریس صدر ٹرمپ کو بطور رہنما دیکھتے ہیں۔ انہوں نے صومالی مہاجرین سے متعلق مبینہ فراڈ اور کووِڈ کے دوران امریکی حکومتی فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔

Scroll to Top