بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کو خوش کرنے اور اس کے ساتھ اپنی قریبی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا بیک وقت انتظام کرنے کے لیے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی رسومات میں اپنا کوئی بھی اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد بھیجنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے حوالے سے آخری رسومات جاری ہیں جن میں شرکت کے لیے مصر، قطر اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود تہران میں موجود ہیں تاہم ان عالمی وفود کے برعکس بھارت کی مودی حکومت نے وہاں کوئی بھی بڑا وزارتی وفد بھیجنے سے گریز کیا۔
بھارت کی جانب سے تہران بھیجے جانے والے وفد کی قیادت محض بہار کے گورنر سید عطا حسنین اور نائب وزیر خارجہ پبتر مارگریٹا کر رہے ہیں، جسے سفارتی حلقوں میں بہت ہی نچلے درجے کی نمائندگی سمجھا جا رہا ہے۔
معروف بھارتی جریدے دی وائرنے بھی اپنی رپورٹ میں اعلیٰ سطحی وفد نہ بھیجنے کے بھارتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مودی کا علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت نہ کرنے اور اعلیٰ وفد سے گریز کا یہ بڑا فیصلہ ایران سے بھارت کی بڑھتی ہوئی دوری کی عکاسی کرتا ہے۔





