اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مشورہ دیا تھا، جس کا آج پارٹی کو فائدہ ہوا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سیاست میں لچک ضروری ہے اور دو قدم پیچھے، ایک قدم آگے کی حکمت عملی سیاسی میدان میں کامیابی کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ اور اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی نہ کر کے وزیرِاعلیٰ نے مثبت قدم اٹھایا۔
فیصل واوڈا کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان سے سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں ممکن نہیں، تاہم بہنوں کی ملاقات ان کا حق تھا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے میران شاہ میں شہید ہونے والے بہادر افسر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ یہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ذمہ داری ہے کہ شہید افسر کے اہل خانہ کی مکمل داد رسی کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں ذمہ داری، ہوش مندی اور امن کے راستے کو اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج جیل میں بہن عظمیٰ خان کی ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ عمران خان کی آگے کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کی سیاسی کمیٹی تحلیل کر دی
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں سیاسی پیغامات لائیں گی تو ملاقاتیں سیاسی نوعیت کی تصور ہوں گی اور اس صورت میں پابندی لگ سکتی ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا فوجی افسر کی شہادت کے موقع پر نہ جا کر امریکی قونصلیٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ مثبت کام ہونا چاہیے، موجودہ وزیراعلیٰ اپنا کام کریں، گورنر اپنا کام کریں اور صوبے کی خدمت ہو۔ اگر دھونس اور زبردستی کی سیاست کی جائے تو گورنر راج سامنے ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا میں سب کے لیے سیاسی حل چاہتا ہوں، پہلے ہی واضح کر چکا ہوں کہ 26 نومبر کو کوئی چڑھائی نہیں ہوگی۔





