فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی سرکاری اداروں میں شفافیت سے متعلق رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری ادارے اپنی سرکاری ویب سائٹس پر قانون کے تحت درکار معلومات کا اوسطاً 57 فیصد حصہ از خود فراہم کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیشگی معلومات کی فراہمی ادارہ جاتی شفافیت کو مضبوط بنانے اور غلط اطلاعات کے پھیلاؤ کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
سرکاری اور مصدقہ معلومات کی عدم دستیابی سے افواہوں، قیاس آرائیوں اور بے بنیاد مفروضوں کو تقویت ملتی ہے، جو بالآخر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہوئے اداروں کی ساکھ متاثر کرتی ہے۔
یہ جائزہ فافن کی “کاؤنٹرنگ ڈس انفارمیشن تھرو انفارمیشن” مہم کے تحت کیا گیا، جس میں صوبے کے 190 سرکاری اداروں کا تجزیہ شامل تھا۔ ان میں 36 سیکرٹریٹ محکمے، 98 منسلکہ ادارے اور 56 خود مختار ادارے شامل تھے جنہیں خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی شق 5 کے تحت معلومات کی 12 مختلف کیٹیگریز از خود شائع کرنے کی قانونی ذمہ داری دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قدرتی وسائل پر حق مقامی آبادی کا ، تمام فیصلے مقامی مفاد کے تحت کیے جائیں گے،وزیراعلی سہیل آفریدی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیکرٹریٹ محکموں اور خود مختار اداروں کی مجموعی کارکردگی بہتر رہی جن کی اوسط تعمیل 64 فیصد رہی، جبکہ منسلکہ ادارے محض 50 فیصد کی سطح تک پہنچ سکے۔
سیکرٹریٹ محکموں میں اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور اور معدنیات ترقیاتی محکمے 92 فیصد معلومات فراہم کرکے سرفہرست رہے۔ منسلک اداروں میں انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (آئی ایم سائنسز)، سنٹرل جیل پشاور اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 83 فیصد تک معلومات شائع کیں۔ خود مختار اداروں میں زرعی یونیورسٹی پشاور نے بھی 92 فیصد تعمیل حاصل کی۔
رپورٹ میں اس جانب بھی نشاندہی کی گئی کہ تقریباً نصف سرکاری ادارے مطلوبہ معلومات کا 50 فیصد سے بھی کم حصہ فراہم کر رہے ہیں۔ 27 سیکرٹریٹ محکمے، 73 منسلکہ ادارے اور 30 خود مختار ادارے صرف 33 سے 67 فیصد تک معلومات شائع کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ 14 منسلکہ ادارے، دو خود مختار ادارے اور ایک سیکرٹریٹ محکمہ محض 17 سے 25 فیصد تک معلومات فراہم کر سکے۔
تنظیمی معلومات، جیسے محکموں کی ذمہ داریاں، ڈھانچہ اور کام، سب سے زیادہ دستیاب کیٹیگری رہی جو 89 فیصد ویب سائٹس پر موجود تھی۔ اسی طرح 84 فیصد اداروں کی ویب سائٹس پر قانونی فریم ورک سے متعلق تفصیلات بھی موجود تھیں۔ اہلکاروں سے متعلق معلومات اور سرکاری خدمات 76 فیصد ویب سائٹس پر دستیاب پائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق عوامی فیصلوں اور مالی شفافیت کے شعبوں میں واضح کمی دیکھی گئی۔ صرف 15 فیصد اداروں نے اپنے فیصلوں کے طریقہ کار یا عوامی مشاورت کے مواقع سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ بجٹ سے متعلق تفصیلات بھی کمزور رہیں اور محض 27 فیصد اداروں نے اپنے مجوزہ یا منظور شدہ اخراجات ویب سائٹس پر شائع کیے۔
اس طرح سبسڈی، مراعات، پرمٹس اور لائسنسنگ سے متعلق معلومات کی دستیابی بھی محدود رہی؛ صرف 23 فیصد اداروں نے سبسڈی یا فلاحی پروگراموں سے متعلق معلومات فراہم کیں جبکہ محض چار فیصد اداروں نے مراعات یا لائسنس کے مستفیدین کے بارے میں تفصیلات شائع کیں۔
اگرچہ 94 فیصد اداروں نے وہ کیٹیگریز واضح کیں جن کی معلومات وہ رکھتے ہیں لیکن صرف 29 فیصد اداروں نے معلومات کے حصول سے متعلق رہنمائی یا پبلک انفارمیشن آفیسرز کے رابطہ نمبرز فراہم کیے۔
فافن نے نشاندہی کی کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ ایک مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے تاہم غیر مستقل عمل درآمد شہری نگرانی کو محدود کرتا ہے۔
فافن نے صوبائی اداروں پر زور دیا کہ وہ بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین کو پیش نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مستند اور بروقت معلومات آن لائن فراہم کریں تاکہ جمہوری عمل میں عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔





