ذہنی مریض سے ذہنی ڈاکٹر ہی بات کر سکتا ہے، مریم اورنگزیب

لاہور: لاہور میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ذہنی مریض سے صرف ذہنی ڈاکٹر ہی مذاکرات کر سکتا ہے‘‘ اور جو سرخ لکیر عبور کرے گا، وہ آئین میں درج سزا سے نہیں بچ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کوئی شخص اپنی زبان کی گندگی سے فوج یا ملکی اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں رکھتا۔

ان کے مطابق تحریکِ انصاف نے 9 مئی کو نہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا بلکہ ایسے اقدامات آئین کی رو سے ’’غداری‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پر حملہ برداشت نہیں کیا جا سکتا، اور جو سیاست بیرونی فنڈنگ پر کھڑی ہو، اس کے چہرے آخرکار بے نقاب ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کی بنیاد بھی فارن فنڈنگ ہی تھی، جبکہ 9 مئی کا واقعہ مبینہ طور پر اپنی کرپشن اور جرائم چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ایک ارب 29 کروڑ ڈالر قسط کی منظوری دیدی

سینئر وزیر نے خبردار کیا کہ ایسے عناصر کے ساتھ وہی برتاؤ ہوگا جو ملک دشمن قوتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا گورنر ہاؤس کو جلانے کی دھمکی کو انتہائی خطرناک اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام اور افواجِ پاکستان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے۔

Scroll to Top