اسلام آباد: وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے کبھی بھی نواز شریف کو سیاسی عمل سے باہر نہیں کیا اور جماعت کے تمام بڑے فیصلوں میں ان سے مشاورت کی جاتی ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ترقی اور خدمت کی سیاست کو ترجیح دی۔
ہم نے موٹرویز کا جال بچھایا، ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، اور نئی نسل کو حقائق معلوم ہونے چاہئیں انہوں نے کہا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ ہم 9 مئی کی سیاست کرنے والے نہیں، ہم 28 مئی والے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ملکی وقار اور سالمیت پر سمجھوتہ کیے بغیر اپنا مؤقف رکھا۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کبھی آئی ایم ایف کو خطوط لکھے، نہ ہی ملکی مفاد کے خلاف کچھ کیا۔ ن لیگ نے انہیں مائنس نہیں کیا، نہ کرنے کا ارادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومیں نعروں اور جذباتی تقاریر سے نہیں بنتیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کردار کشی کی کوششیں کی گئیں، مگر مسلم لیگ ن نے کئی بار بات چیت کی پیشکش کی۔ ہم جمہوری رویوں پر یقین رکھتے ہیں اور یہی رویے آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر جمہوریت موجود نہیں، اور آدھے سے زیادہ لوگ خود کہتے ہیں کہ کوئی راستہ نکالا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں کرپشن کے تاثر میں نمایاں کمی، این سی پی ایس 2025 رپورٹ جاری
انہوں نے کہا کہ گورنر راج آئینی عمل ہے مگر انتہائی ناپسندیدہ قدم ہوتا ہے۔ KP کے لوگ ترقی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس لیے اس معاملے پر سنجیدہ گفتگو ہو رہی ہے۔
دوسری جانب پروگرام میں شریک پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے شکوہ کیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی کارکنوں کے پاس جانے کی کوئی جگہ نہیں۔ پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا ہے، مینڈیٹ چوری ہو تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ سیاسی الزامات سے بھری پڑی ہے۔ فاطمہ جناح کو غدار کہا گیا، بھٹو کو سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو مائنس کرنے کی کوششوں کا انجام بہتر نہیں ہوگا کیونکہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔





