اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی سیاسی صورتحال اور ادارہ جاتی مداخلت پر تفصیلی غور کے بعد اپنا اعلامیہ جاری کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس بریفنگ سے قوم میں شدید اضطراب پیدا ہوا، اور جمہوریت دشمن عناصر انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی آواز دبائی جا رہی ہے جبکہ عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعت کو خطرہ قرار دینا افسوسناک ہے۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا نوٹیفیکیشن فوری جاری کیا جائے۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ سیاسی انجینئرنگ نہ رکنے کی صورت میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور کہا کہ سیاست میں سب کو شامل کرنے کی ضرورت ہے، کسی کو نکالنے کی نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پاکستان کی سکیورٹی کی ضمانت ہیں اور ان کے ساتھ بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی قیدیوں سے آزادانہ ملاقاتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جیلوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کی جیل سہولیات پر بنائی گئی حکومتی کمیٹی کی پیشکش قبول کی اور اعلان کیا کہ وکلاء پر مشتمل پارلیمانی نمائندے اڈیالہ جیل کا دورہ کریں گے۔
اعلامیے میں آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ شاہد خٹک کو پارلیمانی لیڈر نامزد ہونے پر مبارکباد بھی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق پیر کو اپوزیشن اتحاد کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے کوئی ورکر منگل کے روز بہنوں یا وکلا کے ہمراہ اڈیالہ جیل نہیں جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی، بیرسٹر گوہر کا اہم بیان
اجلاس میں یہ مشترکہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کو کریک ڈاؤن یا رکاوٹ کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل ہوں اور پی ٹی آئی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ بات چیت کے حامی رہے ہیں، ادارے کے مثبت کردار کو سراہا ہے، اور مضبوط فوج پاکستان کی ضامن ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا وہ غلط ہوا اور کچھ لوگ ادارے اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں، جبکہ ایسے لوگ جو اس دراڑ کے بینیفشری ہیں، وہ لڑائی کروانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ادارے اور پارٹی کے درمیان مس انڈرسٹینڈنگ برقرار رہے۔





