اگر سب کچھ شفاف ہے تو نوجوان دربدر کیوں ہیں؟ امیر مقام کا سہیل آفریدی سے سوال

صحت بحران، بے روزگاری اور اسکینڈلز،ن لیگی رہنما امیر مقام نے سہیل آفریدی کے دعوؤں کو زمینی حقائق سے ٹکرا دیا

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حالیہ تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تقریر زمینی حقائق کے بالکل منافی تھی اور اس میں صوبے کو درپیش اصل مسائل کو نظرانداز کیا گیا۔

اپنے بیان میں امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے جان بوجھ کر صوبے کے سرکاری اسپتالوں کی ابتر صورتحال اور صحت کے سنگین بحران پر بات کرنے سے گریز کیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا نظامِ صحت شدید دباؤ کا شکار ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مسلسل زیرو کرپشن کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، مگر اس کے باوجود بی آر ٹی اور صحت کارڈ جیسے بڑے اسکینڈلز منظرعام پر آ چکے ہیں۔ امیر مقام کے مطابق بلین ٹری، گندم اور دیگر متعدد اسکینڈلز بھی نیب اور عدالتی رپورٹس کا حصہ ہیں، جو حکومتی دعوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

مسلم لیگی رہنما نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی خیبرپختونخوا میں سب کچھ شفاف ہے تو پھر صوبے کا نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر کیوں پھر رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بدحالی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتی بیانیہ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ مریم نواز ایک آئینی اور عوامی مینڈیٹ سے منتخب وزیرِ اعلیٰ ہیں اور ان پر ذاتی نوعیت کے حملے دراصل سیاسی ناکامی کا اعتراف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب نعروں، کھوکھلے وعدوں اور دھمکیوں کی سیاست سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کو بلیک میل کرنے کی سیاست اب کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوام اصل کارکردگی اور زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ امیر مقام کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی تقریر حقیقت کے بجائے فریب پر مبنی تھی، جسے عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں۔

Scroll to Top