افغان مہاجرین کے مستقبل پر شدید دھچکا، جرمنی نے پناہ گزین پروگرام ختم کر کے یورپی پالیسیوں پر اثر ڈالا
تفصیلات کے مطابق جرمنی کی حکومت نے افغان مہاجرین کے لیے پناہ گزین پروگرام فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد افغان مہاجرین کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ افغان مہاجرین کے جرائم میں ملوث ہونے اور سنگین سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔
جرمن میڈیا نے بتایا کہ حکومت نے 640 افغان پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی آنے کے منتظر افغان مہاجرین کے داخلے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں اور داخلی تنازعات نے عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق 2024 میں جرمنی نے افغان باشندوں کے خلاف 28 اور 2025 میں 81 مجرمانہ کارروائیوں پر ملک بدر کرنے کے اقدامات کیے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت کی یہ سخت پالیسی افغان مہاجرین کی صورت حال مزید مشکل بنا دے گی اور ان کی یورپ میں پناہ کی راہوں کو محدود کرے گی۔ اس اقدام سے جرمنی میں افغان مہاجرین کے مستقبل اور دیگر یورپی ممالک میں پناہ گزین پروگرامز کے اثرات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
جرمنی کی یہ فیصلہ عالمی سطح پر افغان مہاجرین کی صورتحال اور یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کی پالیسیوں کے حوالے سے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ افغان حکومت اور بین الاقوامی ادارے اس فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مہاجرین کے تحفظ اور انسانی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔





