موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ،این آئی ایچ کی ایڈوائزری جاری

قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے پاکستان میں موسمی انفلوئنزا ایچ تھری این ٹو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں اور متعلقہ محکموں کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

این آئی ایچ کے مطابق سال 2025–26 کے دوران عالمی سطح پر ایچ تھری این ٹو سامنے آیا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں مئی سے نومبر کے دوران انفلوئنزا کے کیسز میں خاص اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں تقریباً دو تہائی یعنی 66 فیصد کیسز ایچ تھری این ٹو کے ہیں۔

ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی ایچ تھری این ٹو کے کیسز نمایاں طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خبردار: فریج میں رکھا ہوا آٹا آپ کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے

پاکستان میں ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں 12 فیصد ایچ تھری این ٹو مثبت پائے گئے، بزرگ، حاملہ خواتین، بچے اور دائمی امراض کے مریض زیادہ خطرے میں، انفلوئنزا سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

قومی ادارہ صحت نے تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کو صورتحال کی روشنی میں ہدایات جاری کی ہیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہاتھوں کی صفائی، کھانسی و چھینک میں احتیاط اور رش سے گریز ضروری ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو رومال یا ٹشو پیپر سے ڈھانپیں، استعمال کے فوراً بعد ٹشو پیپر کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائیں، اور اپنے ہاتھ صاف پانی اور صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔

آنکھوں، منہ اور ناک کو بار بار ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں اور اس بیماری سے متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ ماسک کا استعمال کریں اور مرض کی صورت میں گھر پر رہیں اور لوگوں سے میل جول میں احتیاط کریں۔

Scroll to Top