ماضی کے سانحات اور آج کی سیاست! مشرف زیدی نے عمران خان کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیا

ماضی کے سانحات اور آج کی سیاست! مشرف زیدی نے عمران خان کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیا

860 دن کی قید، 775 ٹوئٹس اور 451 ملاقاتیں، مشرف زیدی نے عمران خان سے متعلق چونکا دینے والے حقائق بتا دیے

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے معاونِ خصوصی اور ترجمان مشرف زیدی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق ریاستی مؤقف میں نمایاں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور داخلی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں عمران خان اب ملک کے لیے ایک سیکیورٹی خطرہ بن چکے ہیں۔

بدھ کے روز برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی سیکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے، جہاں بھارت، ایران اور افغانستان کی سرحدی صورتحال سمیت داخلی سلامتی کے مسائل نے ریاستی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق انہی حالات میں عمران خان سے متعلق ریاستی سوچ میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔

طبی سہولیات سے متعلق تاثر کی وضاحت مشرف زیدی نے عمران خان کی صحت سے متعلق پھیلنے والی افواہوں کی بھی وضاحت کی اور کہا کہ عمران خان کا متعدد بار ڈاکٹر فیصل سلطان اور دیگر طبی ماہرین نے معائنہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان کا کوئی ذاتی یا فوجی ڈاکٹر مقرر ہے، بلکہ تمام طبی معائنہ سول میڈیکل نظام کے تحت کیا گیا ہے۔

قید تنہائی کے دعوے مسترد، ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آ گئیںترجمان وزیراعظم نے عمران خان کی جیل میں قید سے متعلق دعوؤں کو بھی رد کرتے ہوئے تفصیلی اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے مطابق عمران خان تقریباً 860 دن سے قید میں ہیں، تاہم اس دوران ان کی اہلِ خانہ، وکلا اور دیگر افراد سے ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔

مشرف زیدی کے مطابق عمران خان کی اپنی بہنوں کے ساتھ مجموعی طور پر 137 ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں علیمہ خان سے 45، عظمیٰ خان سے 49 اور نورین خان سے 43 ملاقاتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کے وکلا کے ساتھ 451 ملاقاتیں ہوئیں، جو قیدِ تنہائی کے دعوؤں کی نفی کرتی ہیں۔

انٹرویوز اور ٹوئٹس پر بھی وضاحت انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان نے قید کے دوران 870 انٹرویوز دیے، حالانکہ جیل قواعد کے مطابق ہفتے میں صرف ایک ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔ اسی طرح جمائمہ گولڈ اسمتھ کی جانب سے ایلون مسک کو کی گئی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے مشرف زیدی نے کہا کہ یہ دعویٰ بھی حقائق کے برعکس ہے کہ عمران خان جیل میں رہتے ہوئے ٹوئٹس نہیں کر سکتے، کیونکہ عمران خان کی جانب سے قید کے دوران 775 ٹوئٹس کیے گئے، جبکہ قانون کے مطابق کوئی بھی قیدی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔

ماضی کے سانحات کا حوالہ اور قومی دردمشرف زیدی نے اپنے بیان میں ماضی کے المناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چاہے بات آسٹریلیا کے بونڈی بیچ کے متاثرین کی ہو یا پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے 143 معصوم بچوں کی شہادت کی، یہ سانحات آج بھی قوم کے زخم تازہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے شہید اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے ہیروز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بچوں کو بچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک باپ اور بیٹے کے طور پر ان کا دل ہر اس خاندان کے ساتھ ہے جس نے قید، جدائی اور موت جیسے ناقابلِ بیان کرب برداشت کیے، اور پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی اور تشدد کے یہ زخم بار بار دہراتے رہے ہیں۔

ریاستی سلامتی اولین ترجیح قومی سلامتی پر گفتگو کرتے ہوئے مشرف زیدی نے کہا کہ پاکستان پر ایک ایسے ملک کی جانب سے حملہ کیا گیا جو رقبے اور وسائل کے لحاظ سے تقریباً دس گنا بڑا ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان نے اپنے دفاع میں مؤثر اور قابلِ قبول کارکردگی دکھائی۔ ان کے مطابق اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست داخلی سلامتی اور حکمرانی کے طریقۂ کار میں بنیادی اصلاحات کرے۔آخر میں ترجمان وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان سے متعلق پیش کیے جانے والے کئی بیانیے زمینی حقائق کے برعکس ہیں، اور موجودہ حالات میں قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور ریاستی ذمہ داریوں کو ذاتی سیاست پر فوقیت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

Scroll to Top