اقوامِ متحدہ کی تازہ رپورٹ میں افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار پایا جبکہ پاکستان کا سرحد پار دہشت گردی کے خلاف موقف عالمی سطح پر درست تسلیم کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حالیہ رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں اور پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی ایک سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے، رپورٹ میں 29 مئی 2024 سے 11 نومبر 2025 تک کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے یہ دعوے کہ افغانستان میں کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں، قابلِ اعتبار نہیں ہیں، مختلف ممالک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ، جماعت انصاراللہ سمیت دیگر کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں۔
ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کیے جن میں 2025 میں تقریباً 600 حملے شامل ہیں، جن میں سے کئی پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنائے۔
ٹی ٹی پی نے اپنے اہداف میں توسیع کرتے ہوئے فوج سے منسلک ادارے اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے منصوبے بھی شامل کر لیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے حملوں کے باعث خطے کی سلامتی، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی پر براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کی سرحد پار دہشت گردی کے نتیجے میں افغان معیشت کو روزانہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو مؤثر اور قابلِ تعریف قرار دیا گیا ہے، پاکستان نے 16 مئی 2025 کو ایک کامیاب کارروائی میں داعش کے ترجمان اور الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی سلطان عزیز اعظّم کو گرفتار کیا جو داعش خراسان کی بھرتی اور پراپیگنڈا سرگرمیوں کا مرکزی عنصر تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ داعش خراسان کو دبایا گیا ہے، لیکن خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مکار مودی کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا، اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہیں دے سکا
رپورٹ میں افغانستان میں بنیادی سہولیات، روزگار، معاشی اور سماجی نظام کی شدید متاثر ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد 4.5 ملین سے زائد افغان باشندوں کی واپسی نے معیشت اور سروسز پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ افغانستان کو دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ پناہ گاہ نہ بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور پاکستان مضبوط شواہد کے ساتھ عالمی برادری کو افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے بارے میں آگاہ کر چکا ہے، رپورٹ میں پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر درست اور مؤثر قرار دیا گیا ہے۔





