سوات میں نجی گاڑیوں میں پولیس لائٹس اور کالے شیشوں پر پابندی عائد

سوات میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سلیم جان نے امن و امان کی صورتحال اور عوامی تحفظ کے خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت متعدد پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت نجی گاڑیوں میں پولیس لائٹس، سائرن اور کسی بھی قسم کے سرکاری نشانات کے استعمال کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر گہرے کالے شیشے یا ایسا کوئی مواد جس سے اندرونی منظر چھپ جائے، مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مطابق اس قسم کے اقدامات جعلی سرکاری تاثر پیدا کر سکتے ہیں جو عوام کی حفاظت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے لیے خطرہ ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی سی این جی گاڑیوں میں بھرائی مکمل طور پر ممنوع ہے اور ایل پی جی شاپس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی سی این جی گاڑی کے سلنڈر میں ایل پی جی نہ بھریں کیونکہ اس سے عوام کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

دریائے سوات میں ہر قسم کی مائننگ اور کھدائی مکمل طور پر ممنوع ہوگی، پرائیویٹ گاڑیوں میں پولیس جیسی لائٹس لگانا اور گہرے رنگ کے شیشے استعمال کرنا منع ہوگا جبکہ کسی بھی دکان کو پرائیویٹ گاڑیوں میں پولیس لائٹس فروخت یا نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پولیس کی وردی بغیر اجازت پہننا بھی ممنوع ہے کیونکہ اس سے شناخت میں غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیکشن 188 تعزیرات پاکستان کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی اور یہ حکمنامہ تیس دن تک نافذ العمل رہے گا۔

Scroll to Top