بنگلہ دیش میں ایک مقبول نوجوان سیاسی رہنما کی ہلاکت کے بعد دارالحکومت ڈھاکا سمیت مختلف شہروں میں کشیدگی پھیل گئی۔
حکام اور شہری حلقوں کی جانب سے آئندہ عام انتخابات سے قبل مزید بدامنی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جن میں مذکورہ رہنما خود بھی امیدوار تھے۔
جمعے کی صبح سڑکوں پر صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی تاہم اس مسلم اکثریتی جنوبی ایشیائی ملک کے شہریوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ جمعے کی نماز کے بعد ایک بار پھر تشدد پھوٹ سکتا ہے۔
32 سالہ شریف عثمان ہادی، انقلابی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے ترجمان تھے اور گزشتہ برس وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں نمایاں کردار ادا کر چکے تھے۔
گزشتہ جمعے ڈھاکا میں انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں نے انہیں سر میں گولی مار دی تھی، ابتدائی طور پر انہیں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ چھ دن تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکے۔
ہادی بھارت کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے جبکہ انقلاب منچہ اپنی ویب سائٹ پر خود کو بغاوت کی روح سے متاثر ایک انقلابی اور ثقافتی پلیٹ فارم قرار دیتا ہے۔
ڈھاکا میں مشتعل ہجوم نے ملک کے بڑے روزناموں پرتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی، مظاہرین نے جذباتی نعرے لگائے، ہادی کا نام لے کر اپنی تحریک جاری رکھنے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
متعدد علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی جبکہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: عثمان ہادی کے قتل پر بھارتی ہائی کمیشن اور عوامی لیگ کے دفاتر پر مظاہرین کے حملے
فائر سروس کے مطابق دی ڈیلی اسٹار کی عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا اس دوران فوجی دستے موقع پر موجود رہے اور فائر فائٹرز نے عمارت میں پھنسے صحافیوں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔





