فیصل کریم کنڈی کا تہلکہ خیز سوال، کیا سزا یافتہ شخص کو احتجاج کے ذریعے رہا کیا جا سکتا ہے؟

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایک انتہائی اہم اور متنازع سوال اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سزا یافتہ ہیں، تو کیا کسی بھی سزا یافتہ شخص کو احتجاج کے ذریعے رہا کرایا جا سکتا ہے؟ ان کے اس سوال نے سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور مختلف ردعمل کا سامنا کر رہا ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر کوئی شخص سزا یافتہ ہے تو اسے کسی بھی قسم کے احتجاج کے ذریعے رہا کرانا غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے احتجاج کا مقصد کسی مجرم کو قانون کے شکنجے سے بچانا نہیں ہونا چاہیے۔ فیصل کریم کنڈی نے یہ سوال اٹھایا کہ’’کیا ہم یہ سمجھیں کہ سزا یافتہ افراد کے حقوق کو کسی احتجاج کے ذریعے پامال کیا جائے گا؟‘‘

اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے سابقہ وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کو کس طرح غیر سیاسی سمجھا جا سکتا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وہ ڈی چوک ریلی میں موجود نہیں تھیں اور کیا انہیں خیبر پختونخوا کے ٹھیکوں میں ملوث نہیں پایا گیا تھا؟

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ایسی باتوں کو محض الزامات کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو احتساب کے دائرے میں آنا چاہیے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے درخواست کی کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن قائم ہونے سے نہ صرف عوام کی زندگی میں سکون آئے گا بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھیں گے اور معاشی سرگرمیاں فروغ پائیں گی

گورنر فیصل کریم کنڈی کا یہ بیان ایک بار پھر سے سیاسی منظرنامے کو گرما دیا ہے۔ ان کے سوالات اور ریمارکس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ان کے بیان پر اپنی رائے دی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مفاد میں فیصلے کرے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ملک کی آئین اور قانون کے مطابق عمل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انصاف اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔

یہ سوالات اور گورنر کا بیان اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان کی سیاست میں موجودہ وقت میں نہ صرف سیاسی تعلقات میں دراڑیں آچکی ہیں بلکہ قانونی اور آئینی مسائل پر بھی بحث جاری ہے۔

Scroll to Top