اسلام آباد: غیر قانونی ہجرت کے مہلک خطرات ایک اور دردناک واقعے میں سامنے آئے، جب پاکستان کے دو نوجوان یورپ جانے کی کوشش میں ایران اور ترکی کی سرحد کے قریب شدید سردی کے باعث ہلاک ہو گئے۔
مقتولین کی شناخت 25 سالہ احتشام اور ارمان اللہ کے نام سے ہوئی ہے، دونوں کا تعلق خیبرپختونخوا کے نوشہرہ سے تھا۔ یہ دونوں نوجوان انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس کر اپنی جان کی بازی ہار گئے۔
پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان کے مطابق ارمان اللہ کی لاش ایران کے پہاڑی علاقے کھوئی سے برآمد کی گئی ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس کی موت شدید سردی اور برفباری کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سفیر پاکستان نے اس بات کا بھی شبہ ظاہر کیا کہ ارمان اللہ اور اس کے ساتھیوں کو انسانی سمگلروں نے دھوکہ دے کر ایک برفانی علاقے میں چھوڑ دیا تھا۔
پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے فوری طور پر مقتولین کے خاندان سے رابطہ کیا اور لاشوں کو پاکستان واپس بھیجنے کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جناب ولی اللہ معروف صاحب!
جونہی سفارت پاکستان کو آپ کی فیس بک سے پوسٹ موصول ہوئی ہم نے مرحوم ارمان اللہ کے متعلق تفصیلات اکٹھی کیں۔ مرحوم کا انتقال ایران ترکی بارڈر کے قریب کھوئی کے مقام پر ہوا ہے۔ ان کی میت اس وقت مقامی ہسپتال میں محفوظ ہے۔ بظاہر لگتا…— Ambassador Mudassir (@AmbMudassir) December 21, 2025
اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ ہمیں گہرے دکھ کے ساتھ اس واقعے کا علم ہوا، اور ہم اپنے شہریوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی غیر قانونی اور خطرناک ہجرت کے راستوں سے اجتناب کریں۔
یہ واقعہ اسی طرح کے سانحات کا تازہ ترین واقعہ ہے، جہاں مایوس نوجوان یورپ میں بہتر زندگی کے لیے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر انسانی سمگلروں کی بے رحم کارروائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان کا معاشی بحران، 75% افغان بے روزگاری کا شکار
پاکستانی حکومت نے اس سانحے کے بعد ایران کے حکام سے رابطہ کیا، اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت اور عوامی روابط کے فروغ پر بات کی اور علاقائی امن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ دونوں ممالک کی سرحدوں پر غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کی جا سکے اور اس طرح کے سانحات کو روکا جا سکے۔
یہ واقعہ پاکستان میں غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے ہوئے مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔




