اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن الائنس نے مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی ہے، تاہم اگر بات چیت میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی شامل نہ ہوئی تو وہ ایسے کسی مذاکراتی عمل کو قبول نہیں کریں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تحریک انصاف کا اولین نکتہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کی کال پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی ہے جبکہ اپوزیشن الائنس نے مذاکرات کی پیشکش کو قبول کیا ہے۔
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آئین کی بالادستی اور سول سپریمیسی جیسے اہم نکات پر بات کرنا چاہتی ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہی تمام معاملات کی کنجی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ نکتہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوتا تو بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود مذاکرات کے حامی ہیں، لیکن اگر مذاکرات میں عمران خان کی رہائی شامل نہ ہو تو وہ ایسے عمل کو بھی قبول نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : محکمہ تعلیم کے زیر نگرانی اسکولز گیمز: زخمی کھلاڑی کے علاج کے لیے تاج محمد ترند کا فوری نوٹس
علی محمد خان نے سوال اٹھایا کہ اگر اصل مسئلے پر بات نہ ہو تو مذاکرات میں آخر کیا کیا جائے، کیا صرف موسم کا حال پوچھا جائے؟
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ دونوں جانب غیر سنجیدگی پائی جاتی ہے اور اسی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ڈائیلاگ کی پیشکش کے بعد سیاسی قیادت کو واضح طور پر کہنا چاہیے تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اور حکومت کو اس معاملے پر پیچھے ہٹنے کا موقع نہیں دینا چاہیے تھا۔
علی محمد خان نے زور دیا کہ مذاکرات اسی صورت بامعنی ہو سکتے ہیں جب ان میں اصل اور بنیادی نکات پر بات کی جائے، ورنہ ایسے مذاکرات محض رسمی کارروائی کے سوا کچھ نہیں ہوں گے۔





