سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں شدید اختلافات کے باوجود مفاہمت کی واضح مثالیں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 1985 سے 2006 تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت سیاسی کشمکش رہی تاہم سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی جدہ میں ہونے والی ملاقات نے بیس سالہ تلخیوں کا خاتمہ کیا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ اسی ایک ملاقات کے نتیجے میں چارٹر آف ڈیموکریسی وجود میں آیا، جس نے جمہوریت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد بھی قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی گئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قومی بحرانوں میں سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا پڑتا ہے۔
سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر اعلیٰ سطح پر مثبت سوچ موجود ہو تو معاملات میں بہتری ممکن ہے جبکہ مفاہمت کے بغیر نچلی سطح کے سیاسی مسائل بھی حل نہیں ہو سکتے۔
ان کے مطابق مسلسل کوششوں سے سیاسی معاملات میں پیش رفت ہو سکتی ہے اور سیاسی مسائل کا حل صرف ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی بہتری اور سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی مذاکراتی پیشکش پارٹی قیادت اور نواز شریف کی منظوری سے کی گئی ہے جبکہ صدر آصف علی زرداری بھی مذاکراتی عمل پر متفق ہیں، رانا ثنااللہ نے یاد دلایا کہ بلاول بھٹو نے بھی 27 دسمبر کے جلسے میں مفاہمت کی بات واضح طور پر کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں اصل رکاوٹ کون؟ رانا ثنا اللہ نے سب کچھ واضح کر دیا
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی فریق طویل عرصے سے مذاکرات سے انکار کی پالیسی پر قائم ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ریاستی اداروں کے خلاف مہم قابل قبول نہیں، جبکہ آرمی چیف کے خلاف زبان اور سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم تشویش ناک ہے۔





