اسلام آباد: پاکستان اور چین نے افغان طالبان کو ایک مضبوط اور مربوط پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے کام کرنے والی تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
یہ بیان پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹرٹیجک مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دیا گیا۔
اعلامیے میں دونوں ممالک نے افغان معاملے پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے، عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے اور افغان حکومت کو جامع سیاسی ڈھانچہ بنانے، معتدل پالیسیاں اپنانے اور خوشگوار ہمسائیگی قائم رکھنے کی ترغیب دینے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق فریقین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) سمیت مشترکہ مفادات کے تحفظ، سٹریٹجک تعاون، دفاع، سکیورٹی، اقتصادی ترقی، عوامی سطح پر روابط اور سی پیک کے اپ گریڈ شدہ ورژن 2.0 کی تعمیر پر بھی اتفاق کیا۔
نئے منصوبے میں صنعت، زراعت اور کان کنی پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ گوادر بندرگاہ کی ترقی اور شاہراہِ قراقرم پر بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ون چائنا اصول کی حمایت کی، تائیوان کی آزادی کی کسی بھی شکل کی مخالفت کی اور سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سے متعلق مسائل پر چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔
چین نے دہشت گردی سے نمٹنے اور چینی منصوبوں، اہلکاروں اور اداروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں : پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات، شراکت داری کے نئے اقدامات سامنے آ گئے
اعلامیے میں بتایا گیا کہ اسلام آباد نے صدر شی جن پنگ کے دور میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کی تعریف کی، 14 ویں پانچ سالہ منصوبے کی کامیابی اور آنے والے 15 ویں منصوبے کے لیے مبارکباد دی جبکہ بیجنگ کے عوام دوست ترقیاتی فلسفے کو سراہا۔
بدلے میں چین نے پاکستان کے قومی اقتصادی منصوبے اڑان پاکستان 2024 تا 2029 میں ترقی کی بنیاد رکھنے پر پاکستان کی قیادت کو مبارکباد دی۔
اعلامیے میں دونوں ممالک نے یکساں طور پر علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے لیے پاک چین تعلقات کی سٹریٹجک اہمیت پر زور دیا اور 2025 تا 2029 کے لیے قریبی مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے کے آخر میں واضح کیا گیا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھائیں گے تاکہ علاقائی خوشحالی اور مستحکم تعلقات قائم رہیں۔





