274طالبان رجیم کے اہلکار جہنم واصل کئے گئے،ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم اور ریاست کی جنگ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ملک میں دہشتگردی کیخلاف کی جانیوالی کوششوں سے متعلق اہم پریس کانفرنس کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ پوری قوم اور ریاست کی جنگ ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد یہ ہے سال 2025 میں دہشت گردی کے اقدامات کا جامع احاطہ کیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا۔ سال 2025 میں انسداد دہشت گردی کارروائی کی غیر معمولی تعداد میں کی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فوج،پولیس،ایف سی اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے 75ہزار175انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے، 14ہزار 658آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے، 58 ہزار778انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بلوچستان میں کیے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ گزشتہ سال 2597دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی کی جنگ میں ہماری 1235شہادتیں ہوئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پچھلے سال 27 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 2 دھماکوں میں خواتین کا استعمال کیا گیا۔ اگر آپ ان نمبرز جو دیکھتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے کے پی میں کیوں 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں، اس کی وجہ وہاں political terror نیکسس ہے جو وہاں پروان چڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے 2025 میں 1557 واقعات ہوئے، باقی ملک میں 29 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، سال 2025 میں 2597 دہشت گرد مارے گئے ، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبر پختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، ریاست کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف واضح ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ2021 میں دہشت گردی نے سر اٹھانا شروع کیا،2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا۔ افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔

ان کاکہنا تھا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، پاکستان میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز جاری ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں ، یہ ریاست کا بیانیہ ہے ، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خوارج کے بارے میں اللّٰہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو، یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنا ہے۔

امریکا اور اتحادی فوج کے انخلاء میں افغان طالبان کا کوئی تعلق نہیں، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے، افغان طالبان وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشت گردی کو اسپانسرڈ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران شہداء پاکستان کو سلام اور سیلوٹ پیش کیا ۔
ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں شام سے 2500 کے قریب غیر ملکی دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے ہیں اور وہ صرف افغانی نہیں اور قومیت کے دہشتگرد ہیں۔
ان یہ دہشتگرد ی کا جو ناسور ہے اس کا 5 یا 10 فیصد اگر کسی ملک میں آیا ہے تو وہ قومیں قائم نہیں رہیں۔ آپکی مسلح افواج دن رات ان سے نمٹنے کے لیے لڑ رہی ہیں، فیلڈ مارشل نے خطاب میں کہا کہ خوارج کا اسلام سے تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بیانیہ بنایاجاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خارجیوں نے مسلح آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، یہ مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو استعمال کرتے ہیں، خارجیوں کا ایک خاص ونگ آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرتا ہے، سرویلنس کے لیے ڈرونز کا استعمال ہوتا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشتگردی کرتے ہیں، پاک فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ بات ذہن میں ڈالی جاتی ہے کہ ‘یہ تو فوج کی جنگ ہے’ نہیں ، یہ پاکستان کے عوام کی جنگ ہے اگر ہم اس کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے آپ کے اسکولوں اور دفتروں میں بم پھٹیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا کا مسئلہ سیاستدانوں نے حل کرنا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں ، صوبے اور فرقے برابر ہیں۔

انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے معدنیات کے لئے 4ہزار 970 لائسنس جاری کئے،غیر قانونی کان کنی ہورہی ہے، ان معدنیات کا فائدہ تب ہوگا جب وہاں امن ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ اس وقت جو لیڈر تھا جو اپنی جماعت کو ڈکٹیٹر کی طرح چلاتا ہے۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا۔ آرمی چیف کو قوم کا باپ بنایا تھا۔ ہمیں تو پتہ ہے کہ قوم کا ایک ہی باپ ہے، قائداعظم محمد علی جناح۔

Scroll to Top