ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کے اہلکاروں کے ایران کے داخلی معاملات پر بیانات کی سخت مذمت کی ہے اور انہیں واشنگٹن کی ایران مخالف دشمنی کے تسلسل کے طور پر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی موقف نہ تو ایرانی عوام کے مفاد میں ہے اور نہ ہی داخلی امور میں ان کی مداخلت کا مقصد پرامن مسائل کا حل بلکہ اس کا مقصد ایران میں تشدد، دہشت گردی اور بے چینی پیدا کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے آئین کے مطابق پرامن احتجاجات کو تسلیم کیا جاتا ہے اور عوام کی جائز مطالبات کو قانون کے دائرے میں پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ معاشی مشکلات کا ایک بڑا حصہ امریکی پابندیوں اور اقتصادی و مالیاتی دباؤ کی وجہ سے ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائیاں صرف اقتصادی جنگ نہیں، بلکہ نفسیاتی جنگ، میڈیا مہم، فوجی دھمکیاں اور تشدد و دہشت گردی کی ترغیب کا مجموعہ ہیں جو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں امریکی دشمنی کے تاریخی پس منظر کو بھی یاد دلایا گیا جس میں 1953 کی بغاوت، آٹھ سالہ جنگ کے دوران عراقی بعثی حکومت کی حمایت، جون 2025 کے صیہونی حملے میں شرکت اور غیر قانونی پابندیاں شامل ہیں۔
وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستوں کی قومی خودمختاری کا احترام یقینی بنائیں اور آزاد ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے گریز کریں۔
وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکی یکطرفہ پابندیوں اور اقتصادی اقدامات کی غیر انسانی نوعیت پر سنجیدگی سے توجہ دے کیونکہ یہ پابندیاں براہ راست ایرانی عوام کے انسانی حقوق، روزگار اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کو کھلا پیغام دے دیا: مظاہرین کی جانوں کا خون بے جواب نہیں رہے گا
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی قوم اپنی تاریخی تجربات سے سبق لیتے ہوئے غیر ملکی مداخلتوں کا مقابلہ ہوشیاری، اسلامی ایرانی ورثے پر انحصار اور قومی اتحاد کے ذریعے کرے گی، اور امریکہ کی دھوکہ باز اور دشمنانہ پالیسیوں کو ایران کی خودمختاری، آزادی اور وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔





