خیبرپختونخوا : بلدیاتی نمائندوں کااحتجاج اور دھرناموخر

محمد اعجاز آفریدی
 خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد اپنا احتجاج اور دھرنا 26 جنوری تک موخر کر دیا ہے۔

احتجاج موخر کرنے کا فیصلہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد کیا گیاتاہم بلدیاتی نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو وہ دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے۔

لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے مطابق بلدیاتی اداروں کو این ایف سی ایوارڈ کی مد میں وفاق سے ملنے والے فنڈز میں سے ابھی تک ایک روپیہ بھی منتقل نہیں کیا گیا جس کے باعث نچلی سطح پر ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

کونسل نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کو ان کے آئینی اور قانونی اختیارات، مالی وسائل اور بروقت بلدیاتی انتخابات یقینی بنائے جائیں۔

لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے صدر اور میئر مردان حمایت اللہ معیار نے کہا کہ 26 جنوری کو حکومت کے ساتھ آخری مذاکرات ہوں گےاور اگر اس موقع پر بھی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو بلدیاتی نمائندے اپنے حقوق کے حصول کے لیے دوبارہ احتجاج کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام کو اختیارات سے محروم رکھنا دراصل صوبے کو ترقی سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی ادارے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کا پہلا اور موثر ذریعہ ہیں، لیکن فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی کے باعث بلدیاتی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

حمایت اللہ معیار کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ عوامی سطح پر خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

بلدیاتی نمائندوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ 26 جنوری تک ان کے جائز مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گےبصورت دیگر احتجاجی تحریک کو صوبے بھر میں وسعت دی جائے گی۔

Scroll to Top