پاکستانیوں کی ایران سے واپسی، حکام نے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے

اسلام آباد: ایران میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے حکام کے مطابق گبد ریمدان سرحدی پوسٹ کے ذریعے پاکستانیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے، اور گزشتہ روز 11 طالب علم اور 33 زائرین سمیت 44 پاکستانی وطن واپس پہنچے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ تین روز میں ایران سے 142 طلبا اور 235 سے زائد زائرین سمیت مجموعی طور پر 377 پاکستانی اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔ ان طلبا اور زائرین کو بحفاظت ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

FIA حکام نے بتایا کہ شہریوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور انخلا کا عمل ہر ممکن احتیاط کے ساتھ جاری ہے۔

حکام نے پاکستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات کے مطابق حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

پاکستانی حکومت ایران میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے باقاعدگی سے حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران میں موجود پاکستانی طلبہ کے متعلق اہم خبر سامنے آگئی

جبکہ دوسری جانب گوادر میں ایران میں مقیم پاکستانی طلبہ و طالبات اور دیگر شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے بتایا کہ آج ایران سے 51 طلبہ وطالبات پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ اب تک مجموعی طور پر 125 سے زائد طلبہ گبدریمدان بارڈر کے راستے وطن واپس آ چکے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے وطن واپسی کے دوران طلبہ و زائرین کے لیے کھانے، پینے، رہائش اور سفر کی تمام ضروری سہولیات فراہم کی ہیں تاکہ ان کا سفر آسان، محفوظ اور آرام دہ بنایا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر طلبہ کی واپسی اور سہولت کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ طالب علموں کی حفاظت اور آرام دہ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مستقل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن ہو۔

Scroll to Top