عمران خان نے گنڈاپور سے کہا تھا خیبر پختونخوا پر افغانستان قبضہ کرلے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، فوج کو یہاں سے نکالو، جاوید چودھری کے تہکہ خیز انکشافات

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا سے فوج نکالنے کے معاملے پر علی امین گنڈاپور اور عمران خان کے درمیان سخت اختلافات اور تلخ گفتگو ہوئی تھی۔

جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو صوبے سے فوج نکالنے کی ہدایت دی گئی تاہم انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو صوبے پر افغانستان کے قبضے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، تجزیہ کار کے مطابق گنڈاپور نے اس فیصلے کو سیکیورٹی کے لیے خطرناک قرار دیا۔

جاوید چودھری نے کہا کہ اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کے بقول یہ گفتگو اس حد تک سخت تھی کہ اسے ہارڈ ٹاک قرار دیا جا سکتا ہے۔

سینیئر صحافی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ فوج کے انخلا سے صورتحال ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور علاقہ فوری طور پر عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، یہ معلومات مختلف ذرائع اور وہاں موجود افراد کے ذریعے سامنے آئی۔

جاوید چودھری کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کا مؤقف سیکیورٹی کے تناظر میں قابل غور تھا لیکن قیادت کے درمیان اس معاملے پر شدید اختلافات واضح تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عنقریب قبائلی اضلاع کے پی ٹی آئی ایم این ایز اور ایم پی ایز کا بڑا اسکینڈل سامنے آنے والا ہے، فیاض چوہان کا انکشاف

چودھری نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور صوبے میں فوج کے حق میں تھےجبکہ عمران خان اس کے مخالف تھے اور بعض معاملات میں عمران خان ماضی میں اپنے ذاتی سیاسی مفادات کی خاطر خیبرپختونخوا افغانستان کو دینے پر بھی تیار نظر آئے۔

Scroll to Top