وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ نیپرا کی حالیہ رپورٹ پاور سیکٹر کے موجودہ منظرنامے کو درست انداز میں پیش کرنے میں ناکام رہی۔
رپورٹ میں ناکافی اعدادوشمار کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں جبکہ حکومت نے پاور سیکٹر سے متعلق پہلی مرتبہ درست فیصلے لیے۔
انہوں نے کہا کہ ان فیصلوں کے تحت 8 ہزار میگاواٹ کے مستقبل کے منصوبے ختم کیے گئے تاکہ بجلی شعبے کے نقصانات کا بوجھ عام صارف پر نہ ڈالا جائے۔
اویس لغاری نے مزید کہا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں اصلاحات لا کر مسائل حل کر رہی ہے اور صارفین کو اپنے میٹر کی خود ریڈنگ کا اختیار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید ترین میٹر ریڈنگ کے لیے سمارٹ ریڈر ایپ صارفین کے لیے دستیاب ہے اور ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے مستقبل کے نقصانات کی بچت ممکن ہو گی۔ انہوں نے اس بچت کا تخمینہ 17 ارب ڈالر بتایا۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ مارچ 2024 میں بجلی کی قومی اوسط قیمت 53.04 روپے فی یونٹ تھی، جو دسمبر 2025 میں 42.27 روپے فی یونٹ تک گر گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف کی منظوری دے دی
حکومت بجلی کی طلب میں کمی اور اقتصادی عوامل، صارفین کا متبادل ذرائع کی طرف رجحان سمیت دیگر وجوہات کا ادراک رکھتی ہے اور بجلی کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اقدامات میں تین سالہ اضافی مراعاتی پیکجز، ٹیرف کی دوبارہ بات چیت اور قرضے کی ری فنانسنگ شامل ہیں۔
انہوں نے نیپرا کے ڈیٹ سروس سرچارج کے مؤقف پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرچارج آج نہیں بلکہ سالہا سال سے جاری ہے اور اس سے صرف سود کی ادائیگی ہوتی تھی۔
حکومت نے انتظام کیا ہے کہ سرچارج سے موجودہ قرض کی مکمل ادائیگی ممکن ہو جائے، جو 5 سے 6 سال میں مکمل ہو جائے گی۔
اویس لغاری نے کہا کہ سرچارج کے بلوں کے ذریعے قرض کی ادائیگی ختم کرنے کا انتظام کر دیا گیا ہے اور ملک میں بجلی کے شعبے میں شفافیت اور اصلاحات جاری رہیں گی۔





