عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان دفاعی شعبے میں ایک اہم اور ابھرتا ہوا ملک بنتا جا رہا ہے، جو درمیانی سطح پر جدید اور مؤثر دفاعی صلاحیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کنگز کالج لندن کے سیکیورٹی اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ لیکچرر اینڈریاس کریگ کا کہنا ہے کہ پاکستان تیزی سے ایک ایسے دفاعی شراکت دار کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو مختلف ممالک کی ضروریات کے مطابق لچکدار اور قابلِ اعتماد دفاعی حل فراہم کر سکتا ہے۔
“Pakistan “is becoming more relevant as a flexible, mid-tier provider of defence capacity,” said @andreas_krieg, a lecturer at King’s College London’s security studies department.https://t.co/ylIu3VIer8
— Dr Andreas Krieg (@andreas_krieg) January 20, 2026
اینڈریاس کریگ نے ایکس پر عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ شیئر کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی دفاعی صنعت اس وقت غیر معمولی تیزی سے کام کر رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بھارت کے ساتھ گزشتہ سال ہونے والے تنازع کے بعد پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں، ڈرونز اور میزائل سسٹمز کو عملی جنگ میں آزمائے جانے کا درجہ حاصل ہو گیا ہے جس سے عالمی خریداروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان نے 13 مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بات چیت کی ہے جن میں سے 6 سے 8 ممالک کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ معاہدوں میں چین کے اشتراک سے تیار کردہ جے ایف-17 جنگی طیارے، تربیتی طیارے، ڈرونز اور مختلف ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔





