ڈھاکہ: بنگلا دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے واضح کیا ہے کہ اگر آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) بھارتی دباؤ کے آگے جھکتی ہے اور بنگلا دیش پر غیر منطقی دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ صورت حال ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔
آصف نذرل نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے کہنے پر بنگلا دیش پر دباؤ ڈالنا قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں کھیلنے کے حوالے سے بنگلا دیش کا موقف مکمل طور پر واضح اور مستحکم ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ خبروں میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
بنگلا دیش نے وینیو تبدیل کرنے کی بات حقیقی وجوہات کی بنیاد پر کی ہے، نہ کہ کسی دباؤ یا غیر منطقی مطالبے کے تحت۔
آصف نذرل نے کہا اگر آئی سی سی بھارتی دباؤ کے آگے جھکتی ہے اور بنگلا دیش پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ ہرگز قبول نہیں ہوگا۔
بنگلا دیش نے ہمیشہ شفاف اور واضح موقف اختیار کیا ہے اور کرکٹ کے عالمی معیار اور اصولوں کے مطابق کھیلنا چاہتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بنگلا دیش کا مقصد عالمی کرکٹ میں تعاون اور شراکت کو فروغ دینا ہے، لیکن کسی بھی غیر منطقی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی 20 ورلڈکپ: بنگلا دیش کے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر آئی سی سی کا ردعمل سامنے آگیا
یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلا دیش کے بھارت میں کھیلنے سے انکار کی صورت میں آئی سی سی رینکنگ کی بنیاد پر دوسری ٹیم کو شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق بنگلا دیش کی شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ 21 جنوری کو کیا جائے گا، جبکہ آئی سی سی نے بی سی بی کو ڈھاکا میں ہونے والے مذاکرات میں اس حوالے سے ڈیڈ لائن سے آگاہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش بھارت نہ جانے کے مؤقف پر بدستور قائم ہے اور آئی سی سی نے بنگلا دیش کی گروپ تبدیل کرنے کی درخواست قبول نہیں کی۔
بنگلا دیش نے گروپ بی میں شامل آئرلینڈ کے ساتھ گروپ تبدیل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے بنگلا دیش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت میں کسی بھی ٹیم کو براہِ راست کوئی سکیورٹی خطرہ نہیں ہے۔
20 ٹیموں کو بھیجے گئے سکیورٹی مراسلے میں کہا گیا کہ بھارت میں سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں۔ تاہم، آئی سی سی اب بھی بنگلا دیش کے حتمی جواب کا انتظار کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بنگلا دیش نے بھارت نہ جانے کا فیصلہ برقرار رکھا تو آئی سی سی رینکنگ کی بنیاد پر اسکات لینڈ کی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈکپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔





