غزہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بنے گا، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک سالہ صدارت مکمل ہونے پر پریس کانفرنس میں متعدد بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر موقف اختیار کیا۔

صدر ٹرمپ نے اس دوران غزہ بورڈ آف پیس، نیٹو، پاک بھارت جنگ اور G7 اجلاس سے متعلق اہم بیانات دیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ بورڈ کے قیام کا مقصد عالمی سطح پر امن اور تعاون کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی موجودہ ادارے کو کمزور کرنا۔

ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے کہا کہ ان کے دور میں نیٹو کے لیے کیے گئے اقدامات تاریخی اہمیت رکھتے ہیں، اور اگر وہ تعاون نہ کرتے تو نیٹو آج موجود نہ ہوتا اور دنیا میں جنگ کی صورتحال پیدا ہو جاتی۔ انہوں نے کہاگرین لینڈ سے متعلق کچھ ایسا کریں گے کہ نیٹو بھی خوش ہو اور ہم بھی۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ اور گرائے گئے 8 طیاروں کی یاد دہانی کر دی

پیرس میں ہونے والے G7 اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق وینزویلا صدر مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

ایک اور اہم نکتہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی پر بات کرتے ہوئے اٹھایا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ میں لاکھوں لوگ مارے جا سکتے تھے، مگر انہوں نے بروقت مداخلت کر کے حالات قابو میں لائے۔

اگر یہ جنگ نہ رکتی تو 10 سے 20 ملین افراد جان کی بازی ہار جاتے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔

Scroll to Top