اسلام آباد: نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف اور جیل کاٹے جانے کے دعووں پر شدید بحث دیکھنے میں آئی، جہاں وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور سینئر تجزیہ کار حماد حسن کے درمیان لفظی گولہ باری ہوئی۔
پروگرام کے دوران شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ ان کے لیڈر نے جیل کاٹی ہے اور یہ پارٹی کی جدوجہد کا ثبوت ہے۔
اس پر جواب دیتے ہوئے حماد حسن نے کہا کہ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی رہنماؤں نے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔
حماد حسن نے کہا کہ خان عبدالغفار خان نے تقریباً تیس سال جیل کاٹی، مولانا فضل الرحمان اور بے نظیر بھٹو نے پانچ پانچ سال سے زائد قید برداشت کی، ولی خان نے پندرہ سال جیل کاٹی، نواز شریف بھی جیل جا چکے ہیں جبکہ آصف علی زرداری کو سخت جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل جانا کسی ایک جماعت یا ایک لیڈر تک محدود نہیں رہا۔
حماد حسن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت تیراہ آپریشن جیسے حساس معاملے پر سیاست کر رہی ہے اور پارٹی کو کرسی کی فکر چھوڑ کر حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : سینئرتجزیہ کارحماد حسن نے تیراہ آپریشن کے حوالے سےخیبرپختونخواحکومت کا بیانیہ بے نقاب کردیا
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی عروج پر ہے، عوام مارے جا رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں اور شہید ہو رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کو عوام کے بجائے صرف جیل میں موجود ایک قیدی کی فکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گراونڈ پر کوئی نمایاں کارکردگی نظر نہیں آتی، صرف دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ عوامی مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔
پروگرام کے دوران دونوں جانب سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور بحث خاصی تلخ ہو گئی، جس نے خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال، دہشتگردی، اور سیاسی ترجیحات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے۔





