وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ روالپنڈی خودکش دھماکے میں ابتدائی معلومات کے مطابق 31 افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر مملکت کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور افغان شہری نہیں تھا تاہم اس کے افغانستان کے متعدد سفری ریکارڈ سامنے آ چکے ہیں۔ حملہ آور کے جسمانی شواہد اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے اور تمام معلومات اعلیٰ سطح پر شیئر کی جا چکی ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ چاہے دہشتگردی مذہب کے نام پر داڑھی رکھ کر کی جائے یا لسانیت اور صوبائیت کے نام پر بی ایل اے کی صورت میں ہو اس کا پیٹرن ایک ہی ہے۔ یہ لوگ سافٹ ٹارگٹس جیسے بازاروں، اسکولوں، مساجد اور امام بارگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں جو بزدلی کی انتہا ہے۔
وزیر مملکت نے واضح الزام عائد کیا کہ یہ دہشتگردی بھارت کی اسپانسرڈ ہے اور پاکستان کے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق بھارت نے پہلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ سرمایہ کاری دہشتگردی پر کی ہے اور بی ایل اے، ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو ڈالرز میں تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے نام پر نہیں بلکہ پیسے کے لیے قتل و غارت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا افغانستان کو باور کرا چکا ہے کہ وہ ہمسایہ ہونے کے ناتے ان دہشتگردوں کو پناہ دے کر بھارت کی پراکسی نہ بنے۔ مئی میں بھارت کے ساتھ جو کچھ ہوا، یہی انجام ان پراکسیز کا بھی ہوگا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق آج کے حملے میں آئی جی اسلام آباد کے قریبی رشتہ دار بھی شہید ہوئے، اس کے باوجود آئی جی وردی میں موقع پر موجود رہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، دہشتگردی کے خلاف ریاست کا عزم غیر متزلزل ہے اور یہ جنگ ہم جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور جیت رہے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس سانحے میں ہونے والے جانی نقصان کا مکمل ازالہ ممکن نہیں، تاہم ریاست متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔





