سعودی عرب میں رمضان المبارک کے دوران کھجور کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں بلکہ مہمان نوازی اور روایتی رسموں کا لازمی حصہ بھی ہیں۔
افطار کے وقت تازہ یا خشک کھجور کی طلب اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ روزہ دار انہیں افطار کے ساتھ کھاتے ہیں اور یہ غذائیت کے اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق رمضان میں سپر مارکیٹوں اور پریمیم پیکنگ سیکشن میں کھجور کی فروخت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سعودی عرب کے معاشی مشیر فاضل البنین کے مطابق سال بھر کھجور کی طلب مستحکم رہتی ہے، لیکن رمضان میں مقامی طلب میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رمضان میں سیلز اور برآمدات میں اضافہ ضرور ہوتا ہے، لیکن یہ کھجور کی صنعت کا حقیقی اقتصادی عروج نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی ڈیل مسترد کرنے کی خبر پر رانا ثناء کی وضاحت سامنے آ گئی
فاضل البنین کے مطابق حقیقی عروج کھجور کی فصل کے بعد آتا ہے جب مارکیٹ میں بڑی مقدار میں کھجور فروخت کی جاتی ہے، جبکہ رمضان میں زیادہ تر فروخت پہلے سے موجود ذخائر سے کی جاتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیداوار کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ نہیں آتا، اور روایتی کھجور کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں۔ البتہ جدید پیکنگ یا اضافی اجزا جیسے بادام وغیرہ والی پروسیس شدہ کھجور کی قیمت میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں زیادہ تر کھجور مقامی پیداوار کی ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں محدود پروسیس شدہ مصنوعات دستیاب ہیں۔ سال 2024 میں سعودی کھجور کی برآمدات 1.695 بلین سعودی ریال تک پہنچ گئیں جبکہ پیداوار 1.9 ملین ٹن سے زائد رہی، اور کھجور 133 ممالک کو برآمد ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.9 فیصد زیادہ ہے۔
ویژن 2030 کے بعد سنہ 2016 سے 2024 کے درمیان برآمدی قدر میں 192.5 فیصد اضافہ ہوا۔ سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہاں 33 ملین سے زائد کھجور کے درخت ہیں، جو عالمی کل پیداوار کا 27 فیصد بنتے ہیں۔
فاضل البنین نے کھجور کو سعودی عرب کی خوراکی تحفظ کی فریم ورک میں ایک اسٹریٹجک جزو قرار دیا اور کہا کہ صنعت میں مزید ترقی کے لیے طویل المدتی حکمت عملی، کیڑوں سے تحفظ اور ویلیو چین میں مضبوط ہم آہنگی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : رمضان میں حرمین کا سفر: عمرہ ویزا حاصل کرنے کا آسان طریقہ جانیں
ان کا کہنا تھا کہ کیڑوں جیسے ریڈ پام ویو اور دیگر نقصان دہ عوامل کے مکمل حل اور قومی کھجور کمپنی کے قیام سے فصل خریدنے، پروسیس کرنے، پیک کرنے، تقسیم کرنے اور برآمد کرنے کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھجور پر مبنی صنعتوں میں سرمایہ کاری سے معیشت کے لیے اضافی قدر پیدا کی جا سکتی ہے۔
رمضان میں کھجور کی بڑھتی ہوئی طلب نہ صرف مذہبی اہمیت کا آئینہ دار ہے بلکہ یہ سعودی عرب کی اقتصادی اور ثقافتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے، اور مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ دونوں میں کھجور کے مستقبل کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔





