عمران خان کی ڈیل مسترد کرنے کی خبر پر رانا ثناء کی وضاحت سامنے آ گئی

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ڈیل مسترد کرنے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان 24 نومبر کے احتجاج کے تناظر میں دیا گیا تھا، نہ کہ کسی موجودہ یا آئندہ ڈیل کے بارے میں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 24 نومبر کے احتجاج کے دوران کسی بھی معاملے میں پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ ان کی بیان بازی کا تعلق صرف اس احتجاجی صورتحال سے تھا۔

انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے راجا ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو اختیارات دینے کے حوالے سے بات کو بے معنی قرار دیا اور کہا کہ دونوں کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اچکزئی کو وزیراعظم سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن ملاقات نہیں ہوئی، جبکہ حکومت کی جانب سے استحکام پاکستان میثاق کی پیشکش پہلے ہی کی جا چکی تھی۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بھی عمران خان سے ڈیل کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کر دی تھی، اور اس بات کو واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی سے متعلق کوئی معاہدہ یا ڈیل سرکاری سطح پر زیر غور نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بینائی متاثر ہونے کا دعویٰ، عمران خان کی صحت پر نیا بیان سامنے آگیا

جبکہ دوسری جانب وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

نجی ٹی وی کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیل میں ابتدائی طبی معائنہ اور علاج سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر دن کے وقت ممکن نہیں تھا، اس لیے علاج کا انتظام رات کے اوقات میں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بیانات اور قیاس آرائیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ اصل توجہ عمران خان کی صحت اور علاج پر ہونی چاہیے۔

پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے بتایا کہ عمران خان کی بینائی متاثر ہوئی تھی اور ابتدائی طور پر جیل انتظامیہ اور ڈاکٹر کی جانب سے مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد تک کم ہو گئی تھی، جس کی ابتدائی رپورٹس میں بھی تصدیق ہوئی۔

ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے مزید کہا کہ علاج میں تاخیر ایک سنگین مسئلہ تھا، تاہم بعد ازاں مناسب طبی سہولت اور عینک کے استعمال سے بینائی میں واضح بہتری آئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور اصل صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

Scroll to Top