واشنگٹن: ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی جارحیت کی کوشش کی گئی تو وہ بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خط لکھ کر کہا کہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات فوجی خطرے کی حقیقی نشاندہی کرتے ہیں۔
خط میں زور دیا گیا کہ ایران جنگ کے خواہاں نہیں اور کشیدگی میں اضافے کا مقصد نہیں رکھتا، تاہم اگر حملہ ہوا تو وہ دفاعی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود مخالف قوتوں کے فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثے ایران کے جائز ہدف ہوں گے۔
ایران نے امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکا کو ڈیگو گارشیا اور RAF فیئر فورڈ کے ایئر فیلڈز استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
ایرانی مشن نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر ٹرمپ کی سختی، تیل، سونا اور اسٹاک مارکیٹ میں فوری ردعمل
ایران نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے فوری سفارتی کوششیں لازمی ہیں اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ بیان مشرق وسطی میں کشیدگی کی تازہ ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے، اور امریکا-ایران تعلقات پر عالمی نگاہیں مرکوز ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں اور تیل مارکیٹس میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے، اور دنیا بھر میں رہنماؤں کی توجہ ایران-امریکا تعلقات پر مرکوز ہو گئی ہے۔





