واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئے ٹیرف سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت 10 فیصد نیا ٹیرف فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے تاہم ان پر عملدرآمد کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ صدر ٹرمپ نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف نافذ کیے وہ قانون قومی ایمرجنسی کے لیے مخصوص تھا اور اس کے تحت اس نوعیت کے وسیع پیمانے پر تجارتی محصولات عائد نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ قانون صدر کو یکطرفہ طور پر بڑے پیمانے پر اضافی ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
عدالتی فیصلے پر صدر ٹرمپ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے “انتہائی مایوس کن” اور “شرمناک” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ججز سیاسی اثر و رسوخ میں کام کر رہے ہیں اور عدالت غیر ملکی مفادات کے زیر اثر آ گئی ہے۔
انہوں نے کہا میں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور یہ بھی عندیہ دیا کہ دیگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق سیکشن 301 کے تحت قومی سلامتی سے متعلق ٹیرف برقرار رہیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا امریکہ کو ٹیرف سے حاصل شدہ رقم واپس کرنا ہوگی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر قانونی جنگ بھی لڑنی پڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی سپریم کورٹ کا ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات پر بڑا فیصلہ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی عدالت کے فیصلے کو “لاقانونیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ واضح طور پر قانون شکنی کے مترادف ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھارت کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں امریکہ سے تجارتی فائدہ اٹھاتا رہا، تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے۔
انہوں نے کہا ہم بھارت کو ٹیرف ادا نہیں کر رہے، بلکہ بھارت ہمیں ٹیرف ادا کر رہا ہے۔ یہ ایک منصفانہ معاہدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک باوقار شخصیت ہیں، تاہم اب تجارتی معاہدہ امریکہ کے مفاد میں ہے اور مکمل ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی خبردار کر چکے تھے کہ اگر عدالت نے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے، اور اب ان کے حالیہ اقدام کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔





