حکومتی پیشکش کے بعد کیا برف پگھلے گی؟ شیر افضل مروت کا بڑا اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی اور عدالتی تناظر میں الزام تراشی کی سیاست کسی طور مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی نوعیت کے بیانات کا جواب دینے سے گریز کریں گے۔

ان کے بقول انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ علیمہ خان کی جانب سے آنے والے کسی بھی بیان پر وہ ردعمل نہیں دیں گے اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ عدالت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والے ریلیف پر پارٹی کو شکر گزار ہونا چاہیے اور اسے مثبت پیش رفت کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے مواقع پر تحمل اور تدبر کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی صحت جیسے حساس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے، جس پر پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی فیملی کو ملاقات کی پیشکش کی گئی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے تناؤ میں کمی آسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی، پی ٹی آئی پشاور کا اہم رہنما عہدے سے فارغ

انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کے 85 فیصد سے متعلق بیان نے غیر ضروری بے چینی کو جنم دیا۔ ان کے مطابق اس قسم کے بیانات موجودہ حالات میں غلط فہمیاں پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ قیادت جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدہ اور متوازن رویہ اپنائے تاکہ ملک کا سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top