باجوڑ: رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملے میں چار اہلکار شہید اور دو زخمی ہو گئے۔
حملہ نوے کلے کے قریب ابابیل اسکواڈ کی گشتی پارٹی پر افطاری سے کچھ دیر قبل کیا گیا، جس کے بعد جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن جاری ہے۔
شہداء کانسٹیبل یار زادہ، داؤد خان، عمران اور سراج کی نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
اس موقع پر کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤٹس، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ، ڈپٹی کمشنر، ایس پی انوسٹی گیشن، پولیس و سول محکموں کے افسران، عمائدین علاقہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
نماز جنازہ کے بعد پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی اور تابوت پر پھولوں کے گلدستے رکھے گئے جبکہ ملک و قوم کی سلامتی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
زخمی اہلکار ارشاد خان اور عزیز الرحمن کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد خالد نے کہا کہ عوام کی حفاظت کے لیے جان نچھاور کرنے والے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملوث دہشت گردوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ: مسلح افراد کی پولیس پر فائرنگ، 4 اہلکار شہید
واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران باجوڑ پولیس کے خصوصی دستے مختلف شاہراہوں اور بازاروں میں تعینات تھے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے زور دیا کہ عوام پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو چن چن کر سزا دی جائے گی اور علاقے میں سیکورٹی کو مزید سخت کیا جائے گا۔
یہ حملہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد رمضان جیسے بابرکت مہینے میں بھی عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن پولیس کے عزم اور قربانی عوام کی حفاظت میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔





