بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اسرائیل کے حق میں اختیار کیے گئے مؤقف پر اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی اقدامات کی حمایت نے بھارت کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی سے متعلق بحث کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پالیسی بھارت کے طویل مدتی مفادات اور سفارتی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان نے ایران پر حملوں کے تناظر میں وزیرِ اعظم کے ردِعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مؤقف بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دوسری جانب بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران میں بڑھتا ہوا بحران بھارتی معیشت کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور تجارتی خسارے میں ممکنہ اضافے سے بھارت کو معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر محتاط سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی تاکہ وہ اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکے۔





