ایران کا بڑا وار، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، تیل 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ

ایران کا بڑا وار، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، تیل 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ

ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جس کے بعد عالمی تیل منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ہر جہاز کو ہدف بنایا جائے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے کہا کہ اگر کوئی جہاز اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو ایرانی بحریہ اور پاسدارانِ انقلاب اسے تباہ کر دیں گے۔

ایران نے یہ سخت مؤقف حالیہ فضائی حملوں کے بعد اختیار کیا ہے، جن کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ ان میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام شہید ہوئے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ خطے سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی اور آئل پائپ لائنز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ رپورٹ کے مطابق ابراہیم جباری نے کہا ہے کہ ایران خطے سے “ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جانے دے گا”۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ ممکنہ بندش کے خدشے کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد جبکہ ایشیا میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، کیونکہ قطر کی توانائی کمپنی نے ایل این جی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیداوار روک دی ہے۔

ادھر سعودی عرب کی رأس تنورا آئل ریفائنری پر بھی ڈرون حملے کی کوشش کی گئی جسے سعودی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ اس ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت پانچ لاکھ بیرل سے زائد ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top