مشرق وسطیٰ جنگ!فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں،اسحاق ڈار

مشرق وسطیٰ جنگ!فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے ہیں،اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، پاکستان مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر سینیٹ میں اہم بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اقدامات کر رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ 28 فروری کو پاکستان نے موجودہ صورتحال پر پہلا ردعمل دیا، جس کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر موصول ہوئی، جس پر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ جون میں ایران پر ہونے والے حملے کے بعد بھی پاکستان نے معاملات سلجھانے کی کوشش کی تھی اور حالیہ حملے کے بعد بھی پاکستان نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں پاکستان نے کئی ممالک سے رابطے کیے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے افہام و تفہیم کا راستہ نکل آئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اومان کے وزیر خارجہ کے ساتھ رات دیر گئے رابطہ ہوا اور ایران کی قیادت پاکستان کی کوششوں سے مکمل آگاہ اور شکر گزار ہے۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، لیکن مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا، جس پر پاکستان نے کھل کر مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر جوابی کارروائیوں کے بعد پاکستان نے اپنا موقف واضح کیا اور ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی حمایت جاری رکھی۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں ثالثی کی پیشکش بھی کی گئی تھی، اور پاکستان نے ایران پر حملے کی کھلے الفاظ میں مذمت کرنے کے ساتھ ایرانی پارلیمنٹ میں “تشکر پاکستان” کے نعروں کو بھی یقینی بنایا۔ سلامتی کونسل میں پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کے ساتھ سفارتی حل پر زور دیا اور ایران سے پابندیاں ہٹانے کی قرارداد کے حق میں کھڑا رہا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکا و اسرائیل کی جانب سے حملے کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کیا، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ اس تنازع میں براہ راست مداخلت نہیں کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی مذاکرات کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آئی، اور وہ خود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ بین الاقوامی امن و امان خطرے میں ہے اور پاکستان نے عالمی برادری کو تحمل اور صبر کا درس دیا، تاکہ خطے میں تنازعات کا پرامن حل ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top