بھارتی ریاست مغربی بنگال میں پولیس کی جانب سے ایک مسلمان نوجوان پر سرعام بہیمانہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار ایک نہتے نوجوان کو زمین پر گرا کر بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ وہ نوجوان مدد کے لیے پکار رہا ہے۔
یہ واقعہ محض اتفاقیہ نہیں بلکہ اس منظم منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعے نریندر مودی کی حکومت مغربی بنگال جیسے اہم صوبے میں نفرت کو فروغ دے کر سیاسی پولرائزیشن (مذہبی تقسیم) کو مزید گہرا کرنا چاہتی ہے۔
مبصرین کے مطابق، بی جے پی کی حکومت دانستہ طور پر ایسے واقعات کی سرپرستی کر رہی ہے تاکہ معاشرے میں ہندوتوا کے نظریات کو تھوپ کر مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو جائز قرار دیا جا سکے۔
مغربی بنگال میں پولیس کا یہ وحشیانہ روپ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کس طرح مودی سرکار کی اسلام دشمن پالیسیاں ریاستی اداروں کے اندر سرایت کر چکی ہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مودی حکومت اپنی اقتدار کی ہوس میں نفرت کے بیج بو کر عام شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔




