دنیا میں آنتوں کا کینسر تیزی سے بڑھ رہا ہے، جوان افراد میں کیسز میں اضافہ

اسلام آباد : آنتوں کا کینسر دنیا میں سرطان کی تیسری سب سے عام قسم بن چکا ہے، اور عالمی سطح پر اس کے کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 50 سال سے کم عمر نوجوانوں میں بھی آنتوں کے کینسر کے کیسز بڑھ رہے ہیں، جس سے صحت کے ماہرین تشویش میں مبتلا ہیں۔

دسمبر 2024 میں جرنل Lancet Oncology میں شائع ایک تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یورپ، شمالی افریقہ، ایشیا اور اوشیانا سمیت دنیا بھر میں جوان افراد میں آنتوں کا کینسر عام ہوتا جا رہا ہے۔

محققین ابھی تک مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے کہ یہ مرض اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے، مگر ان کا ماننا ہے کہ جنک فوڈ کا زیادہ استعمال، طویل بیٹھنے کا معمول اور موٹاپا اس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ابتدائی علامات جنہیں نظر انداز نہ کریں

یہ بھی پڑھیں : مردان: رمضان میں خواتین کی حفاظت کے لیے لیڈیز پولیس فورس کی خصوصی تعیناتی

ماہرین کے مطابق آنتوں کے کینسر کی بروقت تشخیص زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ چند اہم علامات درج ذیل ہیں:

آنتوں کی سرگرمی میں تبدیلی: قبض یا دست کے ساتھ فضلے کی عادات میں مسلسل تبدیلیاں، فضلے کے اخراج کے باوجود پیٹ خالی نہ ہونے کا احساس۔

فضلے میں خون: خون کے مسلسل اخراج کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ 2025 کی تحقیق میں 50 سال سے کم عمر مریضوں میں یہ سب سے عام علامت پائی گئی۔

فضلے کی رنگت یا ساخت میں تبدیلی: گہری یا سیاہ رنگت، یا فضلے کی ساخت میں اچانک تبدیلی، معدے کے السر یا آنتوں کے کینسر کی نشانی ہو سکتی ہے۔

عمومی صحت میں تبدیلیاں: بغیر وجہ کے وزن کم ہونا، مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، بھوک میں کمی، متلی یا قے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا ایران کے خلاف سخت موقف، امریکی وزیرخارجہ کی خبردار کن پیش گوئی

خاندانی تاریخ: اگر خاندان میں کسی کو آنتوں کا کینسر ہو چکا ہے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امریکن کالج آف سرجنز کی جاری کردہ گائیڈلائنز کے مطابق آنتوں کے کینسر کی بروقت شناخت اور علاج ممکن ہے، اور خاص طور پر نوجوانوں میں اس مرض کے بڑھتے ہوئے رجحان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماہرین زور دیتے ہیں کہ اگر یہ علامات مسلسل ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے، کیونکہ جلد تشخیص کے بعد علاج زیادہ مؤثر اور آسان ہو سکتا ہے۔

> نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تحقیق اور معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ اپنے معالج سے مشورہ کریں اور خود تشخیص پر انحصار نہ کریں۔

Scroll to Top