واشنگٹن : امریکی سینیٹ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے روکنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کی قرارداد کو مسترد کر دیا۔
100 رکنی سینیٹ میں یہ قرارداد 47 کے مقابلے میں 52 ووٹوں سے ناکام ہوئی، جس سے واضح ہو گیا کہ سینیٹ کی اکثریت نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔
صدر ٹرمپ کے خلاف پیش کی گئی یہ قرارداد ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے سینیٹرز نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران پر فضائی حملے فوری طور پر روکے جائیں اور مستقبل کی کسی بھی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لی جائے۔
تاہم سینیٹ کی موجودہ سیاسی تشکیل نے صدر ٹرمپ کی پالیسی کو مضبوطی سے سہارا دیا۔
امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے، جس کے پاس 53 نشستیں ہیں، جبکہ حزب اختلاف ڈیموکریٹس کے 45 نشستیں ہیں اور دو آزاد سینیٹر ڈیموکریٹس کے حق میں ہیں۔
اس سیاسی تشکیل نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے میں مزید اعتماد فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران میں طاقت حاصل کرنے والا کوئی بھی لیڈر محفوظ نہیں، حملے جاری رہیں گے، ٹرمپ
سینیٹ کی اس کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کی ایران پر فوجی دباؤ جاری رکھنے کی حکمت عملی کو واضح حمایت ملی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے راستے میں سیاسی رکاوٹوں کو کم کرتا ہے۔





