ایران کی نئی قیادت پر ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے آگیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد نئے رہنما کے انتخاب کے معاملے میں امریکا کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایک امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طور پر نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔

ٹرمپ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ممکنہ طور پر اگلا سپریم لیڈر قرار دیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس طرح کے کسی فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔

امریکی صدر نے مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک کمزور شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں ایسا رہنما دیکھنا چاہتا ہے جو ملک میں استحکام، ہم آہنگی اور امن کو فروغ دے سکے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں سرکاری نوکریوں کا طریقہ کار تبدیل، نئی پالیسی نافذ

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت کے حوالے سے کسی بھی اہم فیصلے میں ان کی شمولیت ضروری ہے، جیسا کہ ماضی میں وینزویلا کے معاملے میں دیکھا گیا تھا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما سامنے آتا ہے جو سابقہ قیادت کی پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے تو آئندہ پانچ برسوں کے اندر امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی یا تنازع پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔

Scroll to Top