عیدی کے لیے نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کا آسان طریقہ

پاکستان میں عیدالفطر 2026 کے قریب آتے ہی شہریوں میں نئے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی لوگ عیدی دینے کے لیے تازہ اور خوبصورت نوٹ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اضافی قیمت پر نوٹ فروخت کرنے والوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے نئے نوٹ حاصل کریں۔

فروری 2026 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک عید کے موقع پر نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

عیدالفطر کی متوقع تاریخ 20 مارچ 2026 ہے، لہذا شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بروقت درخواست دیں تاکہ بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں نوٹ خریدنے سے بچ سکیں۔

نئے نوٹ حاصل کرنے کا طریقہ: 8877 ایس ایم ایس سروس

اسٹیٹ بینک ہر سال رمضان کے دوسرے ہفتے میں 8877 شارٹ کوڈ سروس فعال کرتا ہے۔ اس کے ذریعے نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے شہری مندرجہ ذیل اقدامات کریں:

1. اپنے موبائل کا ایس ایم ایس ایپ کھولیں۔
2. اپنا شناختی کارڈ نمبر (CNIC) لکھیں۔
3. اسپیس دے کر مطلوبہ بینک برانچ کا کوڈ درج کریں۔
4. یہ پیغام 8877 پر بھیج دیں۔

جوابی ایس ایم ایس میں شہری کو ایک منفرد ٹرانزیکشن کوڈ اور برانچ کا پتہ موصول ہوگا۔ اس کے بعد شہری متعلقہ برانچ کا دورہ کریں اور اپنا اصل شناختی کارڈ اور اس کی ایک نقل ساتھ لے کر جائیں۔ بینک عملہ کوڈ کی تصدیق کے بعد عام طور پر 10، 20 اور 50 روپے کے نوٹوں کا ایک پیکٹ فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کا ایرانی قونصل خانے کا دورہ، پاکستان اور خیبرپختونخوا ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں

اگر 8877 سروس پر رش زیادہ ہو تو شہری اپنے بینک کی مقامی برانچ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ زیادہ تر کمرشل بینک محدود مقدار میں نئے نوٹ فراہم کرتے ہیں، جو عموماً موجودہ صارفین کو ترجیحی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ مارچ کے اوائل میں برانچ کا دورہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ایس بی پی بینک سروسز کارپوریشن کے دفاتر میں نئے نوٹوں کا بڑا ذخیرہ دستیاب ہوتا ہے۔ ان دفاتر میں نوٹ پہلے آئے، پہلے پائےکی بنیاد پر فراہم کیے جاتے ہیں۔

رمضان کے آخری عشرے میں بینک عموماً اے ٹی ایم مشینوں میں 500 اور 1000 روپے کے معیاری نوٹ ڈال دیتے ہیں، جو بڑے نوٹ ہوتے ہیں لیکن خاندان کے بزرگ افراد کو عیدی دینے کے لیے مناسب ہیں۔

ہر سال کچھ افراد نئے نوٹ اضافی قیمت پر فروخت کرتے ہیں، جو غیرقانونی عمل ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے نوٹ حاصل کریں اور کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

Scroll to Top