ایران پر جاری امریکی حملوں کے پہلے 100 گھنٹے ہی امریکا کو بھاری مالی نقصان میں ڈال گئے، جس کی مالیت تقریباً 3.7 ارب ڈالر یا پاکستانی کرنسی میں 10 کھرب 28 ارب روپے بنتی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا یومیہ اوسطاً 891.4 ملین ڈالر یعنی تقریباً 2 کھرب 47 ارب 80 کروڑ روپے جنگی اخراجات میں خرچ کر رہا ہے۔
اس میں جدید اسلحہ، دفاعی نظام اور دیگر آپریشنل اخراجات شامل ہیں، جن کی وجہ سے ابتدائی فضائی اور زمینی حملوں کی لاگت سب سے زیادہ رہی۔
سی ایس آئی ایس کے مطابق اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو امریکی معیشت پر بوجھ اور بڑھ جائے گا اور موجودہ بجٹ میں جنگ کے مکمل اخراجات شامل نہیں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ امریکی فوج کم قیمت والے ہتھیار استعمال کرے گی، جس سے اخراجات میں کمی ممکن ہے، مگر طویل جنگ کے دوران اضافی فنڈز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق جاری، پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے 41 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،بھاری نقصان
ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع اسی شدت سے بڑھتا رہا تو امریکا کے مجموعی فوجی اخراجات 40 سے 95 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔





