وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی اور ذخائر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت وفاقی وزراء، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزارت پیٹرولیم کی جانب سے اجلاس کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پیٹرولیم مصنوعات پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور فی الحال کسی قسم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی پیٹرول پمپ مصنوعی قلت پیدا کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث پایا جائے، اسے فوری طور پر سیل کر کے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے۔
وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم کو خصوصی ٹاسک دیا کہ وہ تمام صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایندھن کی بچت اور عوام کو اس کی بلا تعطل فراہمی کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں۔
نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وزیراعظم نے ایک خصوصی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے کی ہدایت بھی دی، جس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی رئیل ٹائم نگرانی کی جا سکے گی اور صوبوں کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ ڈیٹا شیئر کیا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، احد چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد بھی شریک تھے۔





