امریکا نے افغانستان کو ’غیر قانونی حراست کی ریاست قرار دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ طالبان غیر قانونی قیدی رکھنے کے ذریعے پالیسی پر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یہ حربے موجودہ امریکی انتظامیہ کے دور میں کارآمد نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ طالبان کو ڈینس کوائل، محمود حبیبی اور افغانستان میں غیر قانونی طور پر قید تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔ صدر نے زور دیا کہ طالبان کے دہشت گردانہ طریقے اور سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوششیں امریکی انتظامیہ کے سامنے ناکام ہوں گی۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی کہا کہ افغانستان کو ناجائز حراست کی ریاستی سرپرستی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، اور طالبان کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے بغیر عالمی سطح پر کسی رعایت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ طالبان پالیسی میں رعایت کے لیے دہشت گردانہ حربے جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن یہ طریقہ کار اب کامیاب نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں غیر قانونی حراست میں لیے جانے والے غیر ملکی شہریوں کی تعداد پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ امریکی حکومت نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی قید ناقابل قبول ہیں، اور اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے طالبان پر عالمی دباؤ بڑھے گا اور امریکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ امریکی انتظامیہ نے طالبان پر زور دیا کہ وہ اپنے رویے میں فوری تبدیلی لائیں اور تمام امریکی شہریوں کو بلا شرط رہا کریں۔
یہ اقدام امریکا کی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور طالبان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ غیر قانونی حراست کے ذریعے کسی بھی قسم کے سیاسی فائدے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔





