پشاور: پشاور میں گزشتہ چند دنوں سے ایک عجیب و غریب افواہ نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا۔
مقامی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ ایک نامعلوم ’چڑیل‘ رات کے وقت قبرستان میں گھومتی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں میں شدید تشویش پیدا ہوگئی تھی۔
وزیر باغ کے قریب رہنے والے متعدد افراد نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے قریبی قبرستان میں ایک پراسرار سایہ دیکھا ہے جسے مقامی زبان میں ’چڑیل کا پچل پیری‘ کہا جاتا ہے۔
ان دعوؤں کے بعد علاقے میں خوف کی فضا قائم ہوگئی اور کئی افراد نے احتیاطاً خود کو مسلح بھی کرلیا تاکہ اس مبینہ مخلوق کی تلاش کی جاسکے۔
یہ افواہیں خاص طور پر گلدرہ چوک کے اطراف میں تیزی سے پھیل گئیں جس کے باعث مقامی کمیونٹی میں بے چینی اور توہم پرستی بڑھنے لگی۔
کئی دن تک لوگ اس پراسرار کردار کے بارے میں مختلف کہانیاں سناتے رہے اور رات کے وقت علاقے میں غیر معمولی سرگرمیاں بھی دیکھی گئیں۔
بالآخر مقامی افراد نے ایک مشتبہ شخصیت کو پکڑ لیا جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہی مبینہ چڑیل ہے۔ تاہم جب حقیقت سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک کم عمر لڑکی ہے۔ خوش قسمتی سے شہریوں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور فوراً پولیس کے حوالے کردیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع ،نئے وزراء کن اضلاع سےلئے جائیں گے،تفصیلات سامنے آگئیں
بعد ازاں پولیس حکام نے وضاحت کی کہ یہ 13 سالہ لڑکی تھی جو کئی دنوں سے گھر سے لاپتا تھی۔ پولیس کے مطابق بچی ذہنی مسائل کا شکار ہے اور رات کے وقت علاقے میں گھومنے کی وجہ سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی جس کے باعث وہ اسے چڑیل سمجھ بیٹھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بچی کو طبی معائنے کے بعد اس کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے شہریوں کو افواہوں پر یقین نہ کرنے اور کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔





