واشنگٹن: ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ پُر اعتماد ہیں کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے اہداف جلد اور مؤثر طریقے سے حاصل کیے جائیں گے۔
کیرولین لیویٹ نے وضاحت کی کہ آپریشن اس وقت ختم ہوگا جب تک صدر ٹرمپ کے طے شدہ مقاصد مکمل نہ ہوں۔ ان کے بقول، امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز کو تحفظ فراہم نہیں کیا، اور صدر ٹرمپ اور توانائی کی ٹیم مارکیٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ مزید آپشنز پر بھی غور جاری ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً ۱۴۰ امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر معمولی نوعیت کے زخم ہیں اور ۱۰۸ فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس جا چکے ہیں۔ ۸ فوجیوں کی حالت شدید زخمی ہے اور انہیں اعلیٰ سطح کی طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ ایران جنگ کا ابتدائی منصوبہ چار سے چھ ہفتوں کا تھا، جس میں ایران کے میزائل اور بحریہ کو تباہ کرنا، جوہری صلاحیت ختم کرنا اور اس کے اتحادی گروہوں کو ختم کرنا شامل تھا۔
تاہم آپریشن مقررہ وقت سے آگے بڑھ گیا ہے، اور جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران مکمل اور غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے، چاہے وہ اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے کہ ایران اب براہِ راست خطرہ نہیں رہا۔ پریس سیکریٹری نے تیل اور گیس کی موجودہ قیمتوں میں اضافے کو عارضی قرار دیا اور کہا کہ یہ آپریشن طویل مدت میں قیمتوں کو کم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اقوام متحدہ میں بھارت کی افغانستان سے مداخلت کی سازش برداشت نہیں کرے گا، عاصم افتخار
کیرولین لیویٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری آپریشن ایپک فیوری کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملے ۹۰ فیصد سے زیادہ کم ہو گئے ہیں جبکہ ڈرون حملے تقریباً ۸۵ فیصد کم ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے ایران کے ۵۰ سے زیادہ بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور یہ اچھی بات ہے کہ ان دہشت گردوں کو ختم کیا جائے جو شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بناتے ہیں اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔





