آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے جید شیعہ علماء کرام نے سینیٹر علامہ ناصر عباس کے حالیہ بیانیے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تفرقہ انگیز سیاست ملکی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
مرکزی رہنما فقہ جعفریہ آزاد کشمیر سید ذیشان حیدر اور نائب صدر نفاذِ فقہ جعفریہ میرپور سید محمود حسین شاہ نے اپنے ویڈیو بیانات میں واضح کیا کہ تفرقہ انگیز بیانات قومی وحدت کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس وقت اتحادِ بین المسلمین کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی طرح کوٹلی اور میرپور سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم علماء جن میں سرپرست ایم ایس او کوٹلی مولانا عابد، امیر جے کے یو ایم کوٹلی عدنان جنجوا اور چیف آرگنائزر تنظیم السادات آزاد کشمیر سید گلفراز حسین گردیزی شامل ہیں، نے بھی علامہ ناصر عباس کے موقف سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
علماء کا کہنا ہے کہ ریاست کی سالمیت اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت نہیں کی جا سکتی جو معاشرے میں تقسیم کا باعث بنے۔
اس کے علاوہ سید صدام کاظمی، سید قیصر شیراز کاظمی اور مولانا سید سوال حسین نے بھی اپنے پیغامات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی سطح پر انتشار پھیلانے والے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے اور تمام اکابرین کو ملکی استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
تمام علماء نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کو ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا حقیقی محافظ قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی کو بھی ملکی دفاع اور وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔





